ابنا: علامہ حسن ظفر نقوی نے ملت سے نہایت حساس عنوان پر بات چیت کی۔ علامہ حسن ظفر نقوی تقریر کے ابتداء میں کہا کے میں ایک ماتم دار ہوں اور ایک عام شیعہ ہوں۔ علامہ حسن ظفر نقوی گزشتہ دنوں گرفتار ہونے والے شیعہ نوجوانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کے ہمیں کہا جاتا ہے کے ہم معاملات کو متوازن کررہے ہے جس کے جواب میں علامہ حسن ظفر نقوی کا کہنا تھا کے متوازن کس کے ساتھ؟ دہشتگردوں کے ساتھ؟ علامہ حسن ظفر نقوی نے کہا کے شیعہ نوجوانوں کو گرفتار کرکے ہمیں پریشر میں دالا جارہا ہے ۔ ہمیں دھمکیا ں دی جاتی ہے کے اُن لوگوں سے پریس کانفرنس کروادینگے۔ ملت ہر قسم اقدام کے لیے تیار ہوجائے ۔ علامہ حسن ظفر نقوی نے کہا کے اگر نوجوانوں کو رہائی نصیب نہیں ہوئی تو اپنی ذات کا اعلان کرونگا میں جانتا ہوں مجھے کیا کرنا ہے علامہ حسن ظفر نقوی کا کہنا تھاکہ ایک کام کا انتظار کر رہا ہوں اگر نہیں ہوا تو علم حضرت غازی کو تھام کر اپنی کربلا کی طرف روانہ ہوجاو نگا جس کو آنا ہے میرے پیچھے چلے۔ میں اسیروں کے ساتھ جیل میں رہنا پسند کرونگا مجھے وہ زندان کا اندھیرا پسند ہے جہاں میرے بچے(اسیر) ساتھ ہوں۔
علامہ حسن ظفر نقوی نے کہا کے جب تک میری زبان ہے بولتا رہونگا اگر میں مر بھی گیا تو نوجوان میرا پیغام آگے پہچائے۔ علامہ حسن ظفر نقوی نے شیعہ دُشمن قوتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کے یہ لوگ میری موت سے بھی ڈرتے ہے کہ اگر مار دیا تو اُن پر ایک اور عذاب بن جائے گا۔ علامہ حسن ظفر نقوی نے کہا میرا پیغام پورے پاکستان تک پہچا دے کہ بہت جلد تاریخ کا بھی اعلان کرونگا اور کیا کرنے والا ہوں وہ بھی بتاونگا سب سے آگے خود چلو نگا کہ اگر کچھ ہوا تو پہلے مجھے ہوں۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق علامہ حسن ظفر نقوی کا خطاب ایک ماتم دار کی حثیت سے تمام ملت تشیع سے تھا۔ محرم سے پہلے جو سازشیں ہورہی ہے اُن کے خلاف ملت کی ایک مضبوط آواز تھی علامہ حسن ظفر نقوی نے خود کو ماتم داراور اسیروں کواپنے بچے کہہ کر مخاطب کیا اور بار بارملت کے اتحاد کی طرف اشارہ کرتے رہے................
/169